ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / ایس ایس ایل سی اور پی یو سی مارکس کارڈ آن لائن ہوگا: تنویر سیٹھ

ایس ایس ایل سی اور پی یو سی مارکس کارڈ آن لائن ہوگا: تنویر سیٹھ

Thu, 30 Mar 2017 22:04:53    S.O. News Service

بنگلورو:30/مارچ(ایس او  نیوز) ایس ایس ایل سی اور پی یو سی سال دوم کاامتحان جن طلبا نے رواں سال لکھا ہے، انہیں آن لائن مارکس کارڈ مہیا کرایا جائے گا۔ فرضی مارکس کارڈ کی دھاندلیوں پر روک لگانے اور اسکولوں کی طرف سے مارکس کارڈ فراہم کرنے میں تاخیر کے سلسلے کو ختم کرنے کیلئے محکمہئ تعلیمات عامہ نے ایس ایس ایل سی اور پی یو سی مارکس کارڈ آن لائن مہیا کرانے پر اتفاق کیا ہے۔ ریاستی وزیر برائے بنیادی وثانوی تعلیمات تنویر سیٹھ نے اس سلسلے میں محکمہ کے افسران کے ساتھ اعلیٰ سطحی میٹنگ کی ہے۔طلبا کی طرف سے امتحان کیلئے جو دستاویزات درج کرائے گئے تھے، ان کی تفصیلات ویب سائٹ پر درج کرنے کے بعد انہیں آن لائن مارکس کارڈ مہیا کرایا جائے گا۔ مارکس کارڈ میں اگر انہیں کوئی بھی خامی نظر آئے تو اس کی نشاندہی کرتے ہوئے آن لائن ہی درخواست داخل کرسکتے ہیں اور آن لائن ہی ا س کی اصلاح کردی جائے گی۔ وزیر موصوف نے کہا کہ ریاست میں اس طرح کا تجربہ پہلی بار کیا جارہاہے۔ انہیں توقع ہے کہ یہ تجربہ کامیاب رہے گا اور ریاست گیر پیمانے پر اسے لاگو کیاجاسکے گا۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی صحت تنظیم اور دیگر اداروں کی طرف سے وضع کردہ ضوابط کے مطابق ایک شہری کو ماہانہ کم از کم 14کلو چاول درکار ہیں، جس میں سے 50فیصد ریاستی حکومت برداشت کررہی ہے، قادر نے بتایاکہ اندرا کینٹین کیلئے انتظامات اسکان کے ذریعہ کرائے جانے کی شہر کے بعض اراکین اسمبلی نے مخالفت کی ہے اسی لئے بعض ہوٹل مالکوں کے ساتھ بھی اس سلسلے میں بات چیت جاری ہے، اس کا ٹھیکہ کسے دیاجائے یہ قطعی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔اسکان ادارہ کو اگر ٹھیکہ دیا گیا تو وہ تین گھنٹے پہلے ہی تیار کرکے کینٹین پہنچا دہتا ہے، جس کی وجہ سے اس کی لذت میں فرق آسکتاہے، لہٰذا اراکین اسمبلی نے مشورہ دیا ہے کہ بروقت پکاکر لوازمات مہیا کرانے والی ایجنسیوں سے بات چیت کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہر اسمبلی حلقہ کیلئے اندرا کینٹین کے ایک باورچی خانہ کے قیام کی شرط بھی اسکان کے سامنے رکھی جائے گی لیکن انہیں نہیں لگتا کہ اسے تسلیم کیا جائے گا۔ گنڈ ل پیٹ اسمبلی حلقہ کے انتخابات کے سلسلے میں ان کی طرف سے رقم کی تقسیم کے الزام کو یو ٹی قادر نے مسترد کردیا اور کہاکہ انتخابی مہم کیلئے انہوں نے اپنی سرکاری کار استعمال کی اور نہ ہی سرکاری کار کے ڈرائیور کو طلب کیا، بلکہ اپنی نجی کارمیں انہوں نے وہاں ایک دکان سے پانی خریدنے کیلئے رقم ادا کی، اسی کی تصویر کھینچ کر ان کی کردار کشی کی جارہی ہے، الیکشن کمیشن کی طرف سے اس سلسلے میں وضاحت طلب کی گئی جو انہوں نے پیش کردی ہے، وہ یہ واضح کردینا چاہتے ہیں کہ ان کی طرف سے کہیں بھی انتخابی ضابطہ کی پامالی نہیں ہوئی ہے، بی پی ایل راشن کارڈ ہولڈرس کے متعلق وزیر موصوف نے بتایاکہ ان کیلئے مطلوبہ دستاویزات کو بہت حد تک گھٹا دیا گیا ہے، ان کی طرف سے اب آدھار کارڈ اور انکم سرٹی فکیٹ پیش کرنا ہی کافی ہے، افسران سے کہا گیا ہے کہ انکم سرٹی فکیٹ کی جانچ کی آڑ میں راشن کارڈ کی فراہمی میں تاخیر نہ کی جائے، بلکہ پہلے راشن کارڈ مہیا کرادیا جائے اگر بعد میں وعدہ کے مطابق انکم سرٹی فکیٹ بروقت نہ دی جائے تو راشن کارڈ منسوخ کردیا جائے۔


Share: